11 am to 8 pm

Monday to Saturday

0321-1116000

jdbsays@gmail.com

`

Jannat Developers & Builders (Pvt) Ltd.

Compare Listings

گوادر 2025 میں کیسا ہوگا؟ گوادر سٹی ماسٹر پلان متعارف

اکستان گوادر سمارٹ سٹی کے ماسٹر پلان پر یوں تو ساری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہے اس پر ہونی بھی چاہئے وجہ یہ ہے کہ دنیا کی معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ایکسپرٹ گوادر کا دوبئی اور سنگاپور سے موازنہ کرتے ہیں۔ دبئی سے کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ پورٹ ہے جس کی سالانہ انکم 3.4 بلین ڈالر اور پروفٹ لکھ بھگ 800 ملین ڈالر کے قریب ہے دوسری جانب سنگاپور پورٹ ہے جو دنیا کا بڑا ترین اور دبئی پورٹ کے بعد دوسرا میگا پورٹ ہے۔گوادرپورٹ کی حیثیت اس وقت چین کے نزدیک سی پیک کی ہڈی نما ہے اس پورٹ کو ایشیا کا ماسٹر پورٹ کہنا اسلیے بھی مناسب اور جائز ہے کیونکہ دبئی پورٹ کی خاصیت یہ ہے کہ سارا سال موسم گرم رہنے کی وجہ سے کھلا رہتا ہے۔ جب کس سنگا پورٹ جس کا پاسپورٹ بین الاقوامی سطح پر امریکہ سے بھی زیادہ عزت یافتہ سمجھا جاتا ہے یہاں کا سی پورٹ گہرا ہے۔پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ گوادر پورٹ پر موسم 12 مہینے گرم رہتا ہے اور سنگاپور کے پورٹ سے بھی زیادہ گہرا ہے یہ دنیا کا واحد پورٹ ہے جس میں یہ دونوں خوبیاں قدرت نے تحفے میں دی ہے۔ گوادر سٹی جوکہ گوادر پورٹ کا ہی نور ظہور ہے۔ چائنا کا ماسٹر پلین اس گوادر سٹی کو لے کے ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا شنگھائی پارٹ2؟ لوگ اسے دبئی پارٹ2 کہتے ہیں نظر آتے ہیں لیکن چائنا سے شنگھائی پارٹ 1 بنانے جا رہا ہے۔گوادر سٹی کے ماسٹر پلان کی مماثلت یا موازنہ اس لئے بھی کیا جا سکتا ہے کہ ایک تحقیق اور ماسٹر پلان کے مطابق پورٹ کی سالانہ انکم 2.5 بلین ڈالر بتائی جا رہی ہے ہے آپ سوچ رہے ہوں گے دبئی پورٹ کی سالانہ انکم 3.4 بلین ڈالر ہے تو دبئی اس لحاظ سے گوادر سے بڑا ہی ہوگا ایسا اس لئے نہیں ہے کیونکہ گوادرپورٹ کے سلانہ پرافٹ کا نمبر دبئی سے بہت بڑا ہے جوکہ 1.2 بلین ڈالر ہوگا۔ بڑے اعظم ایشیا میں اتنےپیمانےپر اس پورٹ یا سٹی کی فی الحال کوئی مثال نہیں ملتی۔موجودہ بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی حال ہی میں بیجنگ سے ایک بڑا اعلان موصول ہوا ہے کہ سی پیک پے کام کو تیز کیا جائے ساتھ ہی ساتھ گوادر سٹی اتھارٹی کو بھی یہ ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ گوادر ماسٹر سٹی پروجیکٹ پر کام کو مزید تیز کیا جائے آئے ۔

2025 اس شہر کی ابتدا ہے۔ اس کی ابتدا اتنی مضبوط طریقے سے کی جارہی ہے کہ 2030 تک گوادر 50 ملین ملازمتے مہیا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا شہر بن جائے گا یہ ایک تاریخی ڈویلپمنٹ ہے جس کا اندازہ ایک بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے دی نیوز نے ایک انیلیسس کے مطابق ایک خبر جاری کی تھی جس میں تفصیلن کہا گیا تھا کہ 2050 تک گوادر پورٹ کی سالانہ انکم 30 بلین ڈالراور ایک بلین نوکریاں مہیا کرنے والا ورلڈ لارجیسٹ پورٹ بھی بن جائے گا۔

دوڑے جدید میں اس شہر کی مثال اس لیے بھی نہیں ملتی کیونکہ یہ اپنی مثال خود ایک نیا نمونہ ہے جو ابھی دنیا کی نظروں کے سامنے عملی طور پر نہیں آیا جبکہ چائنا اور پاکستان کے نزدیک اس کی مثال ریئر کی ہڈی سی اس لئے بھی ہے کیونکہ یہ ایک انٹرنیشنل نہیں ملٹی نیشنل ٹریڈ کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا کی تجارت کا کیپٹل کہنا بھی غلط نہ ہوگاحالیہ وقت کے سی پورٹ اور متحدہ عرب امارات کے نیشنل کالج آف سٹیٹسٹکس کے ایکسپرٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس سٹی کا ماسٹر پلان نہایت ماڈرن جن اور جدید ہے اس طرز کے شہر دنیا میں فی الحال نہیں کیوں کہ اس سٹی کی ترقی گراس روٹ لیول سے ہی ٹیکنالوجی کی بیس پر کی گئی ہے۔گوادر پورٹ کو سنگاپور آف پاکستان کا خطاب بھی حاصل ہو چکا ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب دنیا کے بارے میں میں شہر گوادر کے ماڈل کو دیکھتے ہوئے اپنے شہر کو خطاب دے گے جیسا کہ گوادر آف بیلجیئم یا گوادر آف یو ایس اے دینے پر فخر محسوس کریں گے۔

Source: UrduRung.com

img

Jannat Developers & Builders

Related posts

The Role of Competition in an Organization

Competition is a driving force behind the growth of every organizationThis theory in business is...

Continue reading
by

The Frontiers in Marine Science – Why a Sports Science Degree Will Be Able to Help You Entertain from the Game of Your Choice

A science teacher career will start new horizons in the sphere of sciencePicture taking your...

Continue reading
by

...

Continue reading
by Jannat Developers & Builders

Leave a Reply